بڑی دیر سے تھی محوِ پرواز کہ اَب یہ آسمان آیاہے
برسوں قید رہی میری یہ روح کہ اَب یہ گُمان آیا ہے
مُشکلیں دور ہوئیں اور لمحہ کوئی آسان آیا ہے
کہا فرشتوں سے جاؤ لھدمیں کوئی رطب اللسان آیا ہے
پُوچھنا یوں کہ اُس کو نہ ہو محسوس کوئی انجان آیا ہے
یاد رہا یہ سبق اُس کو کہ بھُولا ہی نادان آیا ہے
جواب ہو اگر اُس کا یہ کہ کلمہ پر ایمان لایا ہے
کھڑکی جنتوں کی کھول دینا اُس کی کشادہ لھد میں
دیکھو خُدا کا بندہ بن کے مہمان آیا ہے
مدثرؔ جان لو تم یہ مہمان عالی شان آیاہے
(۱۲؍اکتوبر۲۰۱۵ء، منصورہ لاہور، شام۴۵:۶)
برسوں قید رہی میری یہ روح کہ اَب یہ گُمان آیا ہے
مُشکلیں دور ہوئیں اور لمحہ کوئی آسان آیا ہے
کہا فرشتوں سے جاؤ لھدمیں کوئی رطب اللسان آیا ہے
پُوچھنا یوں کہ اُس کو نہ ہو محسوس کوئی انجان آیا ہے
یاد رہا یہ سبق اُس کو کہ بھُولا ہی نادان آیا ہے
جواب ہو اگر اُس کا یہ کہ کلمہ پر ایمان لایا ہے
کھڑکی جنتوں کی کھول دینا اُس کی کشادہ لھد میں
دیکھو خُدا کا بندہ بن کے مہمان آیا ہے
مدثرؔ جان لو تم یہ مہمان عالی شان آیاہے
(۱۲؍اکتوبر۲۰۱۵ء، منصورہ لاہور، شام۴۵:۶)